تھرپارکر، 5 اکتوبر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھر بلاک ٹو کول مائن کے فیز تھری توسیعی منصوبے اور پاکستان کے پہلے کول ڈرائنگ یونٹ کا افتتاح کردیا۔ یہ منصوبہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے تین دہائی قبل تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے استفادہ کرنے کے وژن کی تکمیل کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر کبھی نظرانداز اور پسماندہ خطہ سمجھا جاتا تھا، تاہم آج یہ پاکستان کا اہم توانائی مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کی ترقی کا سفر 1996 میں شروع ہوا، جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے تھر میں 2,640 میگاواٹ کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ 2008 میں پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے تھر منصوبے کو دوبارہ فعال کیا اور مختلف مشکلات کے باوجود اس پر کام آگے بڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر تھر بدلے گا تو پاکستان بدلے گا‘‘ اور آج اس وعدے کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔
فیز تھری توسیع
حکام کے مطابق فیز تھری توسیع کے بعد تھر بلاک ٹو کان کی سالانہ پیداواری صلاحیت 7.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 11.2 ملین ٹن ہوگئی ہے، جس سے سالانہ 3.6 ملین ٹن اضافی کوئلہ حاصل ہوگا۔
اضافی کوئلہ لکی الیکٹرک پاور کمپنی کے 660 میگاواٹ پاور پلانٹ کو فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد تھر بلاک ٹو کے کوئلے سے مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 1,320 میگاواٹ سے بڑھ کر 1,980 میگاواٹ ہوجائے گی۔ حکام کے مطابق اس سے تقریباً 45 لاکھ گھروں کو روزانہ بجلی فراہم کی جاسکے گی۔
منصوبے سے سالانہ تقریباً 15 ارب روپے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں بچت اور تقریباً 220 ملین ڈالر زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے، جبکہ منصوبے کے آغاز سے اب تک زرمبادلہ کی مجموعی بچت 1.7 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
تھر میں نمایاں ترقی
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر کول منصوبے نے خطے کی معاشی اور سماجی صورتحال تبدیل کردی ہے۔ جہاں پہلے سڑکیں، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات محدود تھیں، وہاں اب جدید سڑکیں، ایئرپورٹ، اسکول، اسپتال اور صاف پانی کے منصوبے قائم ہوچکے ہیں۔
حکام کے مطابق منصوبے سے وابستہ 94 فیصد ملازمین اور سروس فراہم کرنے والے افراد سندھ سے جبکہ 60 فیصد تھرپارکر کے رہائشی ہیں۔ تھر فاؤنڈیشن اور سندھ حکومت کی معاونت سے 5 لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں، جبکہ ماہانہ ایک کروڑ 20 لاکھ لیٹر سے زائد صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے اور 5 ہزار سے زائد طلبہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔
ماحولیاتی منصوبوں کے تحت تقریباً 12 لاکھ درخت لگائے گئے ہیں جبکہ ہزاروں خاندان سولرائزیشن، صفائی اور روزگار کے منصوبوں سے بھی مستفید ہوئے ہیں۔
تھر میں ذہنی صحت کے اقدامات
اس موقع پر سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے چیئرمین سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ نے بلاول بھٹو زرداری کو تھرپارکر میں ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کے اقدامات پر بریفنگ دی۔
انہوں نے بتایا کہ آگاہی مہمات، ٹیلی سائیکاٹری سروسز، نفسیاتی کیمپس، طبی عملے کی تربیت اور کمیونٹی پروگرامز کے باعث تھر میں خودکشی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تھرپارکر، جو ماضی میں سندھ میں رپورٹ ہونے والے خودکشی کے واقعات میں پہلے نمبر پر تھا، اب چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ذہنی صحت کے لیے سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی اور دیگر اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دور دراز علاقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر کے عوام نے پاکستان کو ایک قیمتی قدرتی اثاثہ فراہم کیا ہے، آج تھر بدل رہا ہے، پاکستان ترقی کررہا ہے اور ترقی کا سفر مزید تیزی سے جاری رہے گا۔