کراچی : کراچی میں پورٹ قاسم صنعتی علاقے میں آئل ٹینکروں سے مبینہ طور پر تیل نکالنے، ٹینکروں کے سیل دوبارہ لگانے اور نکالے گئے تیل کو مختلف علاقوں تک سپلائی کرنے کے ایک مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پورٹ قاسم کے گیٹ کے اندر ایم کیو بی ٹرمینل کے سامنے واقع ایک مقام پر مبینہ طور پر مختلف آئل کمپنیوں کے ٹینکروں سے تیل نکالا جاتا ہے، جس کے بعد ٹینکروں پر دوبارہ سیل لگا کر انہیں روانہ بھی کردیا جاتا ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں مبینہ طور پر بڑی مالیت کا تیل غیر مجاز طور پر مارکیٹ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پورٹ قاسم کے گیٹ کے اندر ایم کیو بی ٹرمینل کے سامنے موجود مقام پر اختر حسین نامی شخص مبینہ طور پر یہ سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اختر حسین کا تعلق احسان اللہ عرف ٹیٹی سے بھی بتایا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اختر حسین احسان اللہ ٹی ڈی کا مامو ہے۔۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ٹینکروں سے مبینہ طور پر نکالا جانے والا تیل صرف پورٹ قاسم تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک مخصوص سپلائی چین کے ذریعے مختلف علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اصف نامی شخص بابر مارکیٹ سے مبینہ طور پر تیل حاصل کرکے کورنگی کے مختلف علاقوں میں دکانوں اور دیگر خریداروں کو سپلائی کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق مبینہ سپلائی چین کا دائرہ کورنگی انڈسٹریل ایریا تک بھی پھیلا ہوا ہے، جہاں بعض صنعتی یونٹس کو تیل فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس صورتحال نے ٹینکروں کے سیل، تیل کی مقدار اور سپلائی کے ریکارڈ کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تو پورٹ قاسم میں موجود سی سی ٹی وی فوٹیج، ٹینکروں کے گیٹ پاس، سیل نمبرز، ڈلیوری چالان، وزن کے ریکارڈ اور تیل کی خرید و فروخت سے متعلق دستاویزات مبینہ سرگرمیوں کی حقیقت سامنے لانے میں اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ اگر ٹینکروں سے غیر مجاز طور پر تیل نکالنے کا عمل جاری ہے تو ٹینکروں کے سیل کھولنے اور دوبارہ لگانے کی نگرانی کون کرتا ہے؟ تیل کی مقدار اور ٹینکروں کے سیل نمبرز کا ریکارڈ کیسے برقرار رکھا جاتا ہے، جبکہ مبینہ طور پر نکالے گئے تیل کی خرید و فروخت اور مختلف صنعتی یونٹس تک ترسیل کا ریکارڈ کہاں موجود ہے؟پورٹ قاسم میں مبینہ تیل چوری اور اس سے منسلک سپلائی چین کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی جانب سے تحقیقات کی صورت میں معاملے کی اصل صورتحال سامنے آسکتی ہے۔