کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی چیئرپرسن فریال تالپور کی زیر صدارت سندھ اسمبلی میں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، جس میں سندھ میں جدید اور مکمل فعال فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام اور سندھ کریمنل پراسیکیوشن سروس کی ڈیجیٹلائزیشن و آٹومیشن کے منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار، مشیر آئی ٹی علی راشد، اراکین سندھ اسمبلی سہیل انور سیال اور قاسم سراج سومرو، پراسیکیوٹر جنرل سندھ بیرسٹر سید غلام شبیر شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن، سیکریٹری صحت، ایڈیشنل آئی جی کراچی، کوآرڈینیٹر وزیر داخلہ، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران اور فرانزک و تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے اور جدید فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام، انتظامی و تکنیکی تقاضوں، جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی معیار، تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے سے متعلق اپنی آراء اور تجربات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ منصوبے کے مختلف مراحل میں ضرورت کے مطابق ان ماہرین کی تکنیکی مہارت اور تجربے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔اجلاس کو فرانزک سائنس لیبارٹری کے مجوزہ دائرہ کار، انفرااسٹرکچر، جدید آلات، انتظامی و آپریشنل نظام، انسانی وسائل، ماہر افرادی قوت کی تربیت، کوالٹی اشورنس اور بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن کے تقاضوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔شرکاء کو بتایا گیا کہ جدید لیبارٹری میں ڈی این اے اور حیاتیاتی شواہد کے تجزیے، فنگر پرنٹس، ٹاکسی کولوجی اور ڈرگ ٹیسٹنگ، آتشیں اسلحہ و بیلسٹکس، کرائم سین ایگزامینیشن، شواہد کی ریکوری و تجزیے، ڈیجیٹل اور کمپیوٹر فرانزک سمیت مختلف اہم شعبوں میں جدید سہولیات فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ فرانزک لیبارٹری کی عمارت کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور دسمبر 2026 تک لیبارٹری کو مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔فریال تالپور نے کہا کہ جدید فرانزک سائنس لیبارٹری کا مقصد صرف انفرااسٹرکچر قائم کرنا نہیں بلکہ ایسا مؤثر اور مستند سائنسی نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جو پولیس، تفتیشی اداروں، پراسیکیوشن اور عدالتوں کو بروقت، قابل اعتماد اور سائنسی بنیادوں پر شواہد فراہم کرسکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور واضح ٹائم لائن کے تحت منصوبے پر پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوسرے اہم ایجنڈے کے تحت پراسیکیوٹر جنرل سندھ بیرسٹر سید غلام شبیر شاہ نے فریال تالپور اور شرکاء کو سندھ کریمنل پراسیکیوشن سروس کی ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن سے متعلق مجوزہ پراسیکیوشن کیس مینجمنٹ سسٹم (PCMS) پر تفصیلی بریفنگ دی۔پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے منصوبے کے وژن، ڈیٹا مینجمنٹ، اہداف، مرحلہ وار نفاذ، ضلع وار توسیع، آئی ٹی ٹیم اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔
والے بین الاقوامی فرانزک اور تکنیکی ماہرین نے زوم کے ذریعے شرکت کی